وادیِ کشمیر

وادی کشمیر

خوبصورت سی ایک وادی تھی

جیسے حسن کی ایک شہزادی تھی

 

ٹھنڈے میٹھے چشموں پر

بچے ہنستے گاتے تھے

 

پھول جہاں لہراتے تھے

پرندے نغمے گاتے تھے

 

کچھ لوگوں نے اس پر ظلم کیا

اور خون کے رنگ سے رنگ دیا

 

فضا میں عجب خاموشی چھائی ہے

اس میں بارود کی بُو سمائی ہے

 

نجانے کیسی وحشت طاری  ہے

اور کب سے جنگ یہ جاری ہے

 

گولیاں ہر سو چلتی ہیں

اور خون کی ندیاں بہتی ہیں

 

دل میرا یہ کہتا ہے

اور سپنے بُنتارہتا ہے

 

ایک دن وہ بھی آۓ گا

پِھرحسن تیرا مُسکاۓ گا

 

وہ دن جب بھی آۓ گا

میں تجھ سے ملنے آؤں گا

 

 

ہر دل کی یہ خواہش ہے کہ کشمیر کے لوگ آزاد وطن میں سانس لیں ۔ اپنی مرضی سے اپنے ملک میں رہیں۔ ان شااللہ وہ دن جلد آۓ گا۔

 

5 thoughts on “وادیِ کشمیر

Leave a Reply

Your email address will not be published.