بچے ہمارا قیمتی اثاثہ

uawrites.com

بچے ہمارا قیمتی اثاثہ

 

کیاہم اپنے بچوں کی تربیت اس معیار کی کر رہے ہیں کہ کل کو وہ معاشرہ اور والدین تو دور خود اپنی ذات کے لئے کوئی مثبت سوچ قائم کرسکیں؟ کیا وہ والدین کو اپنا خیر خواہ سمجھیں گے ؟ 

یہ خیال مجھے بس ٹرمینل پہ بس کے انتظار میں بیٹھے ہوۓ آیا ، وجہ بنا موبائل فون پر مصروف ماں کا اپنے چار سال کے بیٹے کو یکےبعد دیگرے چماٹ رسید کرنا۔۔ 

جی ہاں صرف اس کو مارا ہی نہیں ساتھ ہی عزت افزائی کے طور پر ان کو جان کا عذاب اور مصیبت بھی کہا اور یہ کہ کتنا ماورں تمہیں تو اثر بھی نہیں ہوتا۔

دو بہن بھائی عمر میں زیادہ فرق نہیں ، ظاہر سی بات ہے بچے ہیں لڑیں گے بھی اب اس کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں کہ انہیں اس بری طرح سے لتاڑا جاۓ کہ وہ بلکل سہم ہی جائیں ۔ اب دونوں کو منع کرنے کا طریقہ بھی ایسا کہ بڑے بچے کو اپنا بڑا ہونا ہضم نہ ہو اور چھوٹا بچہ خود کو مظلوم سمجھنے لگے۔ تم بڑے ہو کچھ شرم کرلو ۔۔۔۔ تم چھوٹے ہو نا چھوٹے ہی رہو ۔ تمیز نام کی چیز نہیں ۔ 

آجکل بات بات پر ہاتھ کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے والدین خصوصاً ماں بہت جلدی برداشت کا دامن چھوڑ دیتی ہے جس وجہ سے بچے بجاۓ سدھرنے کے مذید بگڑ جاتے ہیں یا ضدی ہو جاتے ہیں ۔ بچوں کو بات بات پر مارا جاۓ تو وہ بے خوف ہو جاتے ہیں پھر ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کب اور کس بات پر مار پڑ رہی ہے ہاں مگر وہ اپنی اس مار کا بدلہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سے لے لیتاہے اور تب والدین کہتے ہیں کہ پتہ نہیں یہ ایسا کیسے / کیسی ہو گئ /گیا۔  

اپنے رویے کو ہم نہیں دیکھ ہے کہ کیا کر رہے ہیں ، موبائل میں مصروف ہیں دو،دو گھنٹے تک بچوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

ان کی بات کو پورا سنے بغیر انکار کر رہے ہیں، ہر بات خواہ وہ صحیح ہو یا غلط ان پر مسلط کر رہے ہیں ۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس بات کو ماننا ہی نہیں چاہتے کہ ‘ زمانے کے انداز بدلے گۓ۔۔ نیا پیر استاد بدلے گۓ’ 

زمانے کے ساتھ ساتھ چیزوں کو اپنانا ہی عقلمندی ہے اب اگر آپ اسی چیز کو لے کر بیٹھے رہیں کہ ہمارے زمانے میں تو آنکھ کا اشارہ بہت ہوتا تھا تو جناب آج آپ آنکھ بھی باہر نکال کر رکھ دیں تو بھی کسی پر کوئی فرق نہیں پڑے۔ آجکل کے بچے وقت سے بہت بڑے ہو رہے ہیں ہر چیز کو ہم سے زیادہ اور جلدی سمجھ رہے ہیں (یہ اور بحث ہے کہ کونسے ذرائع سے انہیں معلومات مل رہی ہیں ) 

اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے ہمیں اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھیں تو ہمیں ان کے لیول پر آ کر ان سے بات کرنی ہوگئ ہمیں اپنے بچوں کو ان کے حصے کا پورا وقت دینا ہو گا۔ انہیں اس بات کا اعتماد دینا ہو گا کہ آپ کی بات کو سراہا جاۓ گا اس کو اہمیت دی جاۓ گی لیکن بات کرنے سے پہلے اور سمجھانے سے پہلے خود کو ان کی جگہ رکھ کر دیکھنا ہو گا کہ آیا وہ کس حد تک ٹھیک ہیں اور ان کو کس طرح سے درست راہ پر لایا جا سکتا ہے اگر آج ہم نے ایسا نہ کیا تو کل کوئی اور ان کا ہمدرد بن کر انہیں صحیح غلط کچھ بھی سمجھا دے گا ۔ کچے ذہنوں کو ابھی سے سنبھال لیں مارنا بُرا نہیں ہے لیکن بچوں کی عزت نفس کو کچلنے سے گریز کریں ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *