Aur Muhabat Haq Mangti Bhi Nahi

اور محبت حق مانگتی بھی نہیں

”تھی کا لفظ استعمال کیا تم نے “، کیا اب نہیں ہے؟
(موبائل سکرین پر میسج پڑھتے ہوۓ مجھے اسکی آنکھیں ابھرتی نظر آئیں۔ )
تھی کا لفظ اس لیے کہ ”محبت تو رہتی ہے مگر حق نہیں رہتا “۔
لکھ کر سینڈ کرتے ہوۓ سوچ رہی تھی کہ جواب میں لکھا ہو گا ”پاگل محبت میں ہی تو سارا حق ہوتا ہے “۔
بیپ بجنے پر موبائل اٹھایا اور میسج کھولتے ہی سارا مان ہوا ہو گیا ۔۔۔
میسج کے جواب میں لکھا تھا “اور محبت حق مانگتی بھی نہیں”۔
تب مجھے لگا کہ میری سوچ اور محبت شائد الگ الگ ہیں،
آنکھ میں جمع ہوتی نمی کو انگلی کی پُور پر رکھ کے دیکھتے ہوۓ کچھ سوچا
اور تلخی سے مسکراتے ہوۓ آنسو ہوا میں اڑا دیا ۔۔
“ جانتی ہوں ” کا جواب بھیج کر موبائل آف کر دیا۔۔

2 thoughts on “Aur Muhabat Haq Mangti Bhi Nahi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *