Khasosi Bachay: Kiya Karo Gi Perha Ker Inhein?

خصوصی بچے: کیا کرو گی اس کو پڑھا کر

 

لاڈلے اور جان سے پیارے اکلوتے بیٹے کو خصوصی بچوں کے اسکول لے کر جاتے ہو ئےاسے اپنے کہےوہ الفاظ یاد آ رہے تھے. جنہیں وہ بھول چکی تھی

مگر سچ ہی تو کہتے ہیں کہ

یہ دنیا مکافات عمل ہے تم یہاں اگر کچھ بو کر بھول بھی جاؤ تو وہ جو اوپر بیٹھا ہے نا وہ نہیں بھولتا وہ سب یہیں تم سے تمہارا بویا ہوا کٹواتا ہے ……..

اور تمھیں چند منٹوں میں تمہاری اوقات دیکھا دیتا ہے …….. کل تک دوسروں کے خصوصی بچوں کو دیکھ کر مذاق بنانے اور ناک سکیڑنے والی آج اپنے بچے کے لئے کس طرح تڑپ جاتی ہے،

جب کوئی اسی کے انداز میں کہتا ہے

” کیا کرو گی اس کو پڑھا کر” ” اس پر اپنا وقت اور پیسہ کیوں ضا یع کر رہی ہو “

کسی محفل میں جب کوئی آواز کا ن میں پڑے کہ ” ایسے بچوں کو تو گھر میں رکھو ان کا یہاں کیا کام ” ہاں یہ بھی تو میں نے ہی کہا تھا نا ……جب ایسے ہی کسی بچے نے میرے کپڑے خراب کر دیےتھے …… جیسے جیسے اسکے قدم اسکول کی طرف بڑھ رہے تھے ویسے ویسے اس کے ذہن میں تمام گزرے لمحے تازہ ہوتے جا رہے تھے کس کس طرح اس نے الله کی بنائی صورتوں کی انکی بناوٹ کی ہنسی اڑائی تھی ..

چلتے چلتے وہ رکی اک بھیک مانگنے والی عورت کو گود میں بچہ اٹھا ئے دیکھ کر تو یاد آیا کتنے غرور سے اس نے ہاتھ جھٹک دیا تھا یہ کہہ کر کہ جب پتا تھا بچہ ٹھیک نہیں تو اسی وقت مار دینا تھا اور وہ بھیک مانگنے والی یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ الله تجھے بھی اولاد دے اور اس کا دکھ تو بھی دیکھے ……..آہ تب میں نے سوچا تھا پاگل میں کونسا تمہاری طرح غریب ہوں جو میری ایسی اولاد ہو گی … ..

میں کیوں یہ بھول گئی کہ دینے والی ذات تو الله کی ہے جسے جہاں چا ہے جب چا ہے جو چا ہے عطا کر دے .. اس کی نظر میں تو سب برابر کیا امیر اور کیا غریب ، کاش کہ میں اپنے کے کی معافی مانگ سکتی ان سب سے جن کا دل اب تک اپنی اتنی تلخ باتوں سے چھلنی کرتی آ ئی ہوں . آج اس کا دل بیٹے کے لئے تو دکھی تھا ہی اس سے زیادہ اپنے ماضی کے رویے پر تھا جو وہ ان خصوصی بچوں اور ان کے ماں باپ کے ساتھ روا رکھتی آئی تھی . الله سے معافی مانگتے ہو ئے جب اسکول میں قدم رکھا تو اسے سب بچے اپنے بچے لگ رہے تھے . آج وہ نہ تو اسے عجیب لگ رہے تھے اور نا ہی ان سے گھن محسوس ہو رہی تھی …….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *