سوشل میڈیا: بچوں کے ساتھ بد سلوکی اور ہمارا رویہ

 

تو جناب بات یہ ہے کہ میں عموماً ایسے موضوعات پر نہیں لکھتی یا یہ کہہ لیں کہ ذہن تانے بانے بنتا ضرور ہے مگر قلم چلتا ہی نہیں۔۔۔

 

مگر اب جو کچھ ہو رہا ہے سوشل میڈیا پر اس نے مجبور کر دیا کہ کچھ نہ کچھ تو لکھوں۔۔ جیسا کہ روز ہی کوئی نہ کوئی دل دہلا دینے والی خبر یں بچوں/بچیوں کے حوالے سے ہماری نظوں سے گزرتی ہیں، جن میں ان سے بدسلوکی کی گئ ہوتی ہے ۔ پڑھ کر دل دُکھتا ہے اتنا ظلم اتنے چھوٹے چھوٹے معصوموں پر ۔ ایسی خبریں پڑھ کر سبھی غمُ غصہ کا شکار ہوتے ہیں ، ظلم کے خلاف بات کی جاتی ہے ، مجرموں کو سزا دِلانے کی بات کی جاتی ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب اچھی نیت سے کرتے ہیں لوگ کہ آئیندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے ۔ مگر وہاں ہی یہ ایک مسلۂ جسے سب (میرے خیال میں) نظرانداز کر رہے ہیں وہ یہ کہ جہاں ہم ایسے واقعات کو سب سے پہلے لوگوں تک پہنچا رہے ہوتے ہیں وہیں پر ہم اُن معصوموں کی شناخت کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے کہ سب سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کا اعزاز کوئی اور نہ لے جاۓ۔۔

کبھی سوچا ہے کہ خدانخواستہ اگر یہی سب آپ کے کسی اپنے کے ساتھ ہو تو بھی کیا آپ ایسے ہی الف سے ے تک تمام معلومات شائع کریں گے؟؟
کیسا محسوس کریں گے آپ جب کوئی آ کر کہے گا اچھا فلاں کے ساتھ جو یہ ہوا تم اسکے فلاں ہو۔

کبھی سوچا کہ کیا گزرتی ہو گی ان خاندانوں پر جب اپنے بچوں کی خبریں بار بار اس طرح دیکھتے ہوں گے؟؟

مگر ہمیں کیا، ہم تو زیادہ سے زیادہ تصاویر شئیر کریں گے اور نام اور عمر کو بھی واضح کر کے لکھیں گے حتی المکان کوشش کریں گے کہ کچھ بھی پوشیدہ نہ رہ جاۓ کہ متاثرہ خاندان کی کچھ تو عزت کا بھرم رہ جاۓ۔

ذرا سوچئے !!!

آپ جو ان سب بچوں کی تصاویر کو اس طرح فرض سمجھ کر سب کو دکھا رہے ہیں ، چلو جو ان واقعات میں جان سے چلے جاتے ہیں ان کا معاملہ تو اور ہے کہ اب دنیا میں نہیں رہے سو مستقبل کی کوئی فکر نہیں ۔۔

مگر جو ایسے مظالم سہہ کر بھی زندہ رہ جاتے ہیں ( ہوتے تو زندہ لاش ہی ہیں ) ان کا کیا مستقبل ہو گا ، کون اپناۓ گا ان کو ، کون بنے گا ان کا سہارا ؟؟؟
کون جوڑے گا ان سے رشتہ ؟؟
ساری زندگی ایک نا کردہ گناہ کی سزا بھگتیں گے صرف آپکی ذرا سی لاپرواہی کی وجہ سے۔۔
میری بس اتنی سی التجا ہے کہ خدارا ان بچوں/ بچیوں پر آپ ہی کچھ رحم کریں ، وہ تو پہلے ہی اتنا ظلم سہہ رہے ہوتے ہیں ۔
آپ ہی کچھ عقل کیجئے تصاویر کو خصوصاً چہرہ دھندلا کر دیجیے ، نام کا ہی پردہ رکھ لیجئے کہ اگر یہ زندہ بچ ہی گۓ ہیں تو زمانہ طعنے دے دے کر زندہ درگور نہ کرے ۔۔

تحریر اچھی لگے تو براہ کرم آگے پھیلائیں، شائد کہ کسی کو بات کی اہمیت کا اندازہ ہو جاۓ۔

جزاک اللہ

10 thoughts on “سوشل میڈیا: بچوں کے ساتھ بد سلوکی اور ہمارا رویہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.