یہ جو نا حق خون بہاتے ہیں

یہ جو ناحق خون بہاتے ہیں

کیسے چین کی نیند سو جاتے ہیں
میں اکثر یہ سوچتی رہتی ہوں
کیا ان کو بھی خواب آتے ہوں گے؟
اور مستقبل سے ڈراتے ہوں گے؟

کیا خوف سے یہ بھی اُٹھتے ہوں گے؟
کیا ان کو بھی پسینے آتے ہوں گے؟
کیا ان کو ڈر نہیں لگتا ہے ؟
جب بچہ گھر سے نکلتا ہے؟
یہ گھر واپس کب آۓ گا ؟
آۓ گا یا لایا جاۓ گا؟
کبھی ان کو وہم ستاتے ہوں گے؟

جب بچے دیر سے آتے ہوں گے
میں سوچتی ہوں ایسا نہ ہو
پھر سوچتی ہوں کہ کیوں نہ ہو؟
ناحق خون بہانے والوں
ظلم کے آلاؤ جلانے والوں
کسی بھول میں نہ رہنا اب
جو بویا ہے وہ کاٹنا اب

مظلوم کی آہ جب جاۓ گی
جا کر عرش ہلاۓ گی
تم اپنی خیر مناؤ جب
لاٹھی حرکت میں آۓ گی !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *