بھول

بهول

بھول

جانے کیا بھول ہوئی ہے

آنکھ سے نیند روٹھ گئی ہے

دل بھی پہلے کب میرا تھا

اب تو روح بھی دور گئی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *