ایک تھی زمُرد

ایک تھی  زمُرد

 

زمرد کے بارے میں تو آپ سب ہی جانتے ہوں گے- جی ہاں زمرد ایک چمک دار سبز پتھر جو کہ بہت قیمتی ہوتا ہے اور اس کے بارے میں آپ وقتا فوقتا پڑھتے ہی رہتے ہیں ، لیکن آج آپ ایک اور زمرد کے بارے میں پڑھنے والے ہیں ۔

 

گھر والوں نے بہت چاہ سے زمرد نام رکھا لیکن قسمت زمرد جیسی نا ہو سکی – ذرا بڑی ہوئی تو پتہ چلا کہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہے- ہر ماں کی طرح زمرد کی والدہ بھی بیٹی کی شادی کے خواب دیکھنے لگیں لیکن ذہنی مرض میں مبتلا انسان کو کون زندگی  کا ساتھی بناۓ – خیر اللہ جو چاہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے زمرد کی بھی شادی ہو ئی  لیکن زیادہ عرصہ چل نا سکی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ مرض بڑھتا گیا تھا اور وہ کسی بھی کام کو ٹھیک سے انجام نہیں دے سکتی تھی۔

اب آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ سب ابھی کیوں لکھ رہی ہوں اور زمرد آخر ہے کون ؟

چلیں بتاتی ہوں دراصل زمرد میرے والدین  کی کزن تھی اور اسکے والدین  کی وفات کے بعد میرے دادا اور نانا نے یہ مناسب سمجھا کہ زمرد کو اپنے ساتھ رکھا جاۓ کیونکہ وہ اس حق میں نہیں تھے کہ انکے بھائی کی بیٹی کسی ادارے میں رہے ، حالانکہ لوگوں نے بہت کہا کہ کیوں ایک پاگل کو اپ لوگ اپنے گھر رکھ رہے ہیں ، کچھ بھی ہو سکتا ہے بچوں کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ، لیکن میرے نانا ، دادا، دادی اور نانی کا دل اس بات سے مطمئن نہیں تھا سو زمرد بی بی کو ہم نے – اپنے بچپن سے ہی کبھی ننھیال تو کبھی ددھیال میں ہی دیکھا۔

ماشاءاللہ ہمارے بڑوں نے اپنے  بڑوں کا مان رکھا اور زمرد کا جتنا بہتر خیال رکھ سکتے تھے رکھا ۔


آج فروری کی سولہ تاریخ ہے وہ تاریخ جب زمرد کو دنیا کے دکھوں سے چھٹی ملی – اسی لیے آج اسکے بارے میں لکھنے کو دل کر رہا ہے – اس کی کچھ یادیں کچھ باتیں تازہ کرنے کے لئے میں نے اپنے ٹولے مطلب کزن پارٹی کو مدد کے لئے کہا اور سلام ہے ان سب کو کہ ایک میسج پر ہی سب شروع ہو گۓ اور اپنی اپنی یادداشت پھرولنے لگے – چلئے اپ سب کو بھی پڑھواتی ہوں۔

ایک بات جو ہم سب کو ہی اچھی طرح یاد ہے وہ ہے

“زمرد اور اسکی گٹھری “

– جی ہاں اسکی گٹھری میں اسکی جان بستی تھی جیسے کسی جن کی جان   ایک طوطے میں ہوتی تھی بچپن کی کہانیوں میں ایسا ہی پڑھتے تھے – تو جناب اس گٹھری سے متعلق بہت سی باتیں ہیں ۔

ہماری کوئی چیز نہں مل رہی زمرد کی گٹھری سے برآمد ہو گی – سرخ رنگ اسکا پسندیدہ تھا اور اس رنگ کا سوٹ دھل کر واپس نہیں آتا تھا بلکہ سیدھا میڈم کی گٹھری میں سما جاتا اور اس کوگِرہ اتنی لگاتی کہ کھولنا مشکل ۔

 

جب اسے کہتے تھے کہ ہمیں جنت میں لے کر جائے گی تو کہتی تھی ہاں باجی لے جاؤں گی۔

چچی بتاتی ہیں کہ وہ اپنا نیلے رنگ کا ایک سوٹ لایئں وہ رنگ بھی زمرد کو پسند ، بس جناب اس سے چھپا کر سینا پڑا اور جب جب پہنا تب تب اسکی باتیں کم گالیاں سننی پڑی ۔

کوئی شادی کارڈ نہیں مل رہا زمرد کی گٹھری زندہ باد

بالوں میں لگانے والی پن ہو یا پونی نہیں مل رہی زمرد کے سر پر ملے گا سب ۔


اچھا ہم بچے بھی تو بہت تنگ کرتے تھے اسکو نادان جو تھے ، اسکی گٹھری کو لے کر بھاگنا اور وہ پیچھے پیچھے گالیاں دیتے ہوۓ ۔

ہاتھ کی انگلی سے پستول کا اشارہ کرنا جیسے اسے آگ ہی لگا دیتا تھا بس پھر گالیاں اور جو اسکے ہاتھ چڑھ گیا اسکی پھینٹی پکی ۔۔۔

میرے ایک چاچو کو اصغر کہتی تھی اور ان کے آنے کا انتظار کیا کرتی تھی ، جب چاچو آتے تو اسکی خوشی کا ٹھکانہ کوئی نہیں ہوتا تھا – مہمان کوئی آ جاتا تو بس اس سے بے تکی  باتیں شروع اور اسکو روکنا مشکل ہو جاتا – اگر اسکے کھانے سے پہلے ہم نے کھا لیا تو اپنا کھانا غصے میں پھینک دیتی کہ پہلے مجھے کیوں نہیں دیا – اگر کھانا یا روٹی گرم ہے تو وہ بھی پھینک دیتی ۔

 

ایک کزن جب گول گپے کھاتیں تو زمرد سے کہتیں کہ بوڑھے نہیں  کھاتے تو وہ گالیاں کہ اللہ کہ پناہ ۔

سفید کپڑے سے ڈرتی تھی اور مانتی نہیں تھی اس کو پہنے کو۔

جب کسی پر بہت پیار آتا تو ” بلی اے بلی “کہتی بہت پیاری لگتی تھی۔

جب خوش ہوتی تو خوب گانے گاتی جو اسکے اپنے بناۓ ہوۓ تھے – لپ سٹک اور دنداسہ کی شوقین تھی – ایک معصوم روح تھی پتہ نہیں اللہ ہی جانے کیا مقصد تھا اس کو دنیا میں بھیجنا کا- عجیب زندگی تھی اس کی – ماں اسکی شادی کا دکھ لئے چل بسی  دنیا سے – ماں جب کہتی کہ چاند چڑھے اتر جے پر اسکی شادی نا ہوے تو خود بھی کہتی رہتی یہی تھی نا پاگل ۔

بھائی تھا جس نے مڑ کر خبر نہیں  لی ، لندن میں رہتا تھا – ایک بار آیا تھا ملنے زمرد تو جیسے خوشی سے پاگل کہ میرا بھائی آیا ہے اور گلے لگے مگر بھائی لندن بابو بار بار پیچھے کرتا جاۓ – مرتے وقت تک نہیں بھولی بھائی کو ۔

ننھیال میں درمیان والی ممانی کے ہی قابو  آتی  تھی جب بہت تنگ کرتی تھی ۔ 

اکثر رات کو ڈر جاتی یا اچانک رونے لگتی تو چاچو جا کر اس کو چپ کرواتے اس سے باتیں کرتے اور اسے پرسکون  کرتے تاکہ وہ سو سکے ۔

لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر تحریر پہلے ہی بہت لمبی ہو چکی ہے – باقی پھر کبھی بشرط زندگی ۔

آخر میں بس یہی کہ اللہ تعالٰی ہماری نادانیوں اور کوتاہیوں کو معاف کرے اور ہمارے بڑوں کو اجر دے دنیاوآخرت میں جنہوں نے زمرد کو کسی پاگل خانے کی نظر نہیں ہونے دیا۔

15 thoughts on “ایک تھی زمُرد

Leave a Reply

Your email address will not be published.