Mujhy Moujzoon Per Yaqeen Hy

مجھے معجزوں پر یقین ہے

ماں جی تسی ورزش نہیں کرائی ناں بازو نوں؟؟؟

اس واسطے نئی چل ریا فیسٹولا ، پریشان نہ ہووو ، ہن تسی اک بال (گیند) لے لو تے اس نال ہتھ دی ورزش کرو . الله کرم کرے گا۔۔
میں جو سوچوں میں گم اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی ، نظر گھما کر ان اماں جی کو دیکھنے لگی جو اس بات سے خوفزدہ تھیں کہ دو ماہ ہو گے ہیں ابھی بھی یہ نہیں چل رہا تو کب چلے گا ؟

اور اگر نہ چلا تو پھر دوسری جگہ یا دوسری بارو پر بنانا پڑے گا. یہی سوچ ان کو پریشان کرنے کو بہت تھی کہ ایک اور آپریشن ……. نہیں نہیں یا الله اسی کو چلا دے

اماں جی کو اتنا پریشان دیکھ کر انہیں تسلی دینے کے لئے میرے قدم خود بخود ان کی طرف اٹھتے چلے گے ۔

 مجھے نہیں پتا کہ میں نے ان سے کیا کہا اور انہیں میری کسی بات پر یقین آیا یا نہیں ، مگران کو سمجھاتے ہوۓ جب میری اچانک نظر اپنی بازو پر گئی تو مجھے وہ اس خوف ارو اذیت تک لے گئی جہاں آج اماں جی تھیں۔

وہ خوف جو اماں جی کی آنکھ میں آج میں دیکھ رہی تھی میں تو خود اس سے گزری تھی .

مجھے لگا کہ شاید میں ان کے لئے کچھ نا کر سکوں مگر جس چیز نے میری مدد کی اس مشکل سے نکلنے میں اگر ان کو بتاؤں تو شاید تھوڑی تکلیف کم ہو سکے ۔

گردے جب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو جسم کی مصنوعی طریقہ  سے صفائی کی جاتی ہے اس عمل کو ڈائیلاسس کہتے ہیں۔ جس کے لئے دو طرح کے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ایک عارضی اور دوسرا مستقل –

عارضی طور پر جہاں سے ڈائیلاسس کیا جاتا ہے اس میں انفکشن ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اس لیے مریض کو فیسٹولا بنوانے کو کہا جاتا ہے تاکہ جلد سے جلد وہاں سے ڈائیلاسس کا عمل شروع کیا جاۓ۔

میرے بازو پر فیسٹولا بنے بھی کافی وقت ہو گیا تھا مگر اس میں کوئی ہلچل نہیں تھی ۔ ڈائیلاسس والے بھیا بھی کہتے اس کی  ورزش کرو ورنہ یہ نہیں چلے گا ۔ خیر ورزش بھی شروع کی مگر سچ بتاؤں تو بہت زیادہ نہیں کی تھی ۔ اور میں اس کو اتنا اہم سمجھ بھی نہیں رہی تھی ۔

ڈاکٹر کے پاس جب دکھانے گئ تو اس نے کہا کہ یہ تو نہیں چل رہا آپ کل کا وقت لیں اور نیا بنوا لیں ۔ ہہییں کیا ۔۔۔ میں تو ایک دم رو ہی پڑی کہ ہاۓ اللہ جی یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا کہ جتنا آپ دیر کریں گے اتنا انفکشن کا خطرہ بڑھے گا۔  لیکن میں نے کہا کہ آپ مجھے بس دو دن دے دیں اس کے بعد بے شک دوسرا بنا دیں ۔ شکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب مان گۓ  اور کہا کہ ورزش  زیادہ کریں اگر یہ نہ چلا  تو پھر آپ کا رونا بھی کسی کام نہیں آۓ گا ، بہادر بن کے آنا ابھی تو بہت کچھ ہو گا آگے ۔۔۔

خیر ہم گھر آ گۓ اور میں بہت پریشان ، دل میں دعائیں مانگ رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد ابو کے کزن آ گۓ ملنے ، کہنے لگے تمہیں کیا ہوا اتنی اُداس ( میں کبھی بھی بیماری کو شکل پر نہیں لائی تھی تب تک ، لیکن اس دن واقعی بہت پریشان تھی) ۔ تو انہیں بتایا کہ یہ کیا ہے ڈاکٹر نے ۔

کہنے لگے اچھا تو نا ایک کام کر اور کچھ نہ کر بس جو میں بتا رہا ہوں نا اسے سچے دل سے پڑھ ، کوئی حساب نہیں بس پڑھتی رہ ۔ ڈاکٹر کے پاس جانے تک پڑھتی رہ ، اللہ کرم کرے گا ۔ پتہ نہیں جب انہوں نے بتایا اسی وقت مجھے لگا اب سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔ میں نے اسی وقت سے ہی پڑھنا شروع کیا ۔

اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ

آپ سوچ نہیں سکتے کہ میں نے کتنا پڑھا اسکو ۔ دن رات ، صبح شام ، سوتے جاگتے کب نہیں پڑھا میں نے ۔ یہاں تک کہ سوتے سے آنکھ کھلتی تھی تو بھی پڑھ رہی ہوتی تھی ۔

ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میری دو تین زبانیں ہوتیں اتنا پڑھ رہی تھی ۔ جب ڈاکٹر نے چیک کرنا شروع کیا تو مجھے اپنی ڈھرکن سنائی دے رہی تھی اور بس زبان پر ورد تھا ایاک نعبد وایاک نستعین   ۔ اور پھر میرے کانوں میں جو آواز آئی اس پر یقین کرنے میں ہی مجھے کتنا وقت لگ گیا جب ڈاکٹر نے کہا

جا کڑئیے مٹھائی بانٹ جا کر ، کام آ گیا تیرا رونا

اب ان کو کیا پتہ کہ کیا کام آیا تھا میرے ۔

تو اماں جی سے میں نے کہا کہ آپ بھی پڑھیں ان شااللہ  اللہ اپنا کرم کرے گا۔

کبھی بھی مایوس مت ہوں ، اللہ تعالٰی کوئی نہ کوئی راستہ نکال دتیا ہے بس ہم ہی اسے دیکھ نہیں پاتے ۔

2 thoughts on “Mujhy Moujzoon Per Yaqeen Hy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *